Sunday, March 13, 2011

دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے لفظ اظہار کی...





دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے لفظ اظہار کی اُلجھن میں پڑا ہے کب سے  اے کڑی چُپ کے در و بام سجانے والے منتظر کوئی سرِ کوہِ ندا ہے کب سے  چاند بھی میری طرح حُسن شناسا نکلا اُس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے  بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے  شعبدہ بازی ٔآئینہ ٔاحساس نہ پوچھ حیرتِ چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے  دیکھئے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے شہر پر چھائی ہوئی سُرخ گھٹا ہے کب سے  کور چشموں کے لئے آئینہ خانہ معلوم! ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے  کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجد ڈھونڈتی کس کو سرِ دشت ہوا ہے کب سے
Ahsan Farooqi 12 March 00:28
‫دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے
لفظ اظہار کی اُلجھن میں پڑا ہے کب سے

اے کڑی چُپ کے در و بام سجانے والے
منتظر کوئی سرِ کوہِ ندا ہے کب سے

چاند بھی میری طرح حُسن شناسا نکلا
اُس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے

بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے
کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے

شعبدہ بازی ٔآئینہ ٔاحساس نہ پوچھ
حیرتِ چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے

دیکھئے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے
شہر پر چھائی ہوئی سُرخ گھٹا ہے کب سے

کور چشموں کے لئے آئینہ خانہ معلوم!
ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے

کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجد
ڈھونڈتی کس کو سرِ دشت ہوا ہے کب سے‬

View Post on Facebook · Edit email settings · Reply to this email to add a comment.

0 comments:

Post a Comment

Related Posts with Thumbnails